بھوپال 26/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) مدھیہ پردیش اسمبلی کا سرمائی اجلاس شروع ہونے سے ایک دن پہلے کابینہ نے 12 سال یا اس سے کم عمر کی لڑکیوں کی عصمت دری یا کسی بھی عمر کی عورت سے گینگ ریپ کے مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کی منظوری دے دی ہے. کابینہ میں اپنے فیصلے کے لئے 376AA اور 376DA کے روپ میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے گرفتار شدگان کو عوامی پراسیکیوشن کی سنوائی کا موقع دئے بغیر ضمانت نہیں ملے گی.
اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب شادی کا جھانسہ دے کر جسمانی تعلقات قائم کرنے والوں کی بھی خیر نہیں ہے، اور ایسے ملزم کے لئے 493K میں ترمیم کرکے اسے سنجیدہ جرم بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔. عصمت دری کے عادی مجرم کو دفعہ 110 کے تحت غیر ضمانتی جرم اور جرمانے کی سزا دینے کے ساتھ خواتین کا پیچھا کرنے کا جرم دوسری بار ثابت ہونے پر کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنا منظور کیا گیا ہے۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ جینت ملیا نے کہا، "کابینہ نے 12 سال یا اس سے کم عمر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کے قصورواروں کو سزائے موت کی منظوری دے دی ہے، گینگ ریپ کے قصورواروں کو بھی سزائے موت کی تجویز منظور کر دی گئی ہے. ''
اگرچہ گزشتہ کابینہ کی میٹنگ میں ملیا اور دیہی ترقی کے وزیر گوپال بھارگو نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عصمت دری کرنے والوں کے لئے موت کی سزا متاثرین کے لئے ایک بڑا خطرہ ہو گا کیونکہ مجرم خاتون یا نابالغہ کی عصمت دری کرنے کے بعد اُن کو جان سے مارنے کی کوشش کریں گے. لہذا کابینہ کی مہر لگانے سے پہلے اس معاملے میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوان نے مزید بات چیت اور قانونی مشورہ حاصل کرنے کے لئے کچھ اور وقت لیا تھا۔
وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کچھ دنوں پہلے 19 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کے بعد کہا تھا کہ عصمت دری کے قصورواروں کو پھانسی کی سزا دینی چاہیے اور وہ قانون بنا کر بل کو منظوری کے لئے حکومت ہند کو بھیجیں گے.